اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نیونس کی سیکولر سیاسی جماعت ندا تیونس نے اتوار کو منعقد ہوئے عام انتخابات میں 217 رکنی پارلیمنٹ میں 85 نشستیں حاصل کرکے کامیابی حاصل کر لی ہے جب کہ برسر اقتدار جماعت النہضہ کو 69 نشستیں ہی حاصل ہوئی ہیں۔
ملک میں سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد جمہوری اصولوں کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی کا یہ پہلا مکمل تجربہ ہوگا۔
جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق، عام انتخابات میں سیکولر جماعت ندا تیونس سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب، حرکت النہضہ پارٹی کے رہنماؤں نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ندا تیونس پر زور دیا ہے کہ وہ سب کو شامل کرکے حکومت تشکیل کریں۔
ندا تیونس کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہونے کی وجہ سے حکومت تشکیل کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔
نداء تیونس کی بنیاد 2013 میں پڑی تھی اور یہ آزاد اور سیکیولر رہنماؤں کے اتحاد کا مجموعہ ہے جس میں ایسے رہنما بھی شامل ہیں جو سابق آمر زین العابدین کے دور اقتدار کا حصہ تھے۔
انتخابات سے پہلے نداء تیونس کا کہنا تھا کہ وہ اسلام پسند حركت النہضہ سے، جس کے اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات ہیں، کبھی اتحاد نہیں کرے گی۔
سنہ 2011 میں تیونس کے انقلابیوں نے مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169